نئی دہلی،9/فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے دو بہنوں سے عصمت دری کے معاملے میں جنسی استحصال کے الزام میں جیل میں بند آسا رام کے بیٹے نارائن سائیں کی ضمانت عرضی مسترد کر دی ہے۔جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس پی سی پنت کی بنچ نے کہا کہ آپ آبروریزی کے الزام میں بند ہیں اور آپ نے تفتیشی افسر کو رشوت دینے کی کوشش کی ہے، آپ کی ضمانت عرضی مسترد کی جاتی ہے۔نارائن سائیں کے خلاف پولیس کو رشوت دینے کا الزام ہے۔واضح رہے ہو کہ نارائن سائیں گزشتہ تین سالوں سے سورت کی جیل میں دو بہنوں سے ریپ کرنے میں الزام میں بند ہے۔گجرات ہائی کورٹ نے اس کی ضمانت کی عرضی مسترد کر دی ہے۔نارائن سائیں کے خلاف الزام ہے کہ عصمت دری معاملہ میں جب اس سے پوچھ گچھ ہونی تھی،تو کرائم برانچ نے پولیس اہلکاروں سمیت ڈاکٹر اور عدالتی حکام کو رشوت دینے کی سازش کا انکشاف کیا۔فروری 2014میں سورت پولیس نے سائیں کے خلاف بدعنوانی روک تھام قانون کے تحت خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔گزشتہ 2 /فروری کو نارائن سائیں کی عرضی پر جسٹس یویو للت نے خود کو سماعت سے الگ کر لیا تھا۔